کیا بسنت کی اجازت صرف لاہور تک محدود ہے یا پورا پنجاب پیلے رنگ میں رنگ جائے گا؟
"ثقافت کی واپسی خوش آئند ہے لیکن انسانی جان کی قیمت پر نہیں۔ کیا 2026 کی بسنت خونی ثابت ہوگی یا یہ ایک نئی محفوظ روایت کا آغاز ہے؟"
لاہور (نیوز ڈیسک): پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 18 سالہ طویل پابندی کے بعد بسنت میلے کی واپسی ہو رہی ہے، لیکن کیا یہ جشن پورے پنجاب میں منایا جائے گا؟ حکومتِ پنجاب نے باضابطہ طور پر 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو لاہور میں بسنت منانے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔
تحقیقات کے مطابق، بسنت منانے کی اجازت صرف لاہور کے ضلعی حدود تک محدود رکھی گئی ہے۔
کیا بسنت کے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد ممکن ہو سکے گا؟
حکومت نے اس بار بسنت کو "ٹیکنالوجی بیسڈ" بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
رجسٹریشن لازمی: پتنگ ساز اور فروخت کنندگان کے لیے ای-بز (e-Biz) ایپ پر رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
ڈور کا معیار: صرف کاٹن کی 9 دھاگوں والی ڈور کی اجازت ہے، جبکہ دھاتی یا کیمیکل ڈور پر 10 سال قید اور 20 لاکھ جرمانہ ہو سکتا ہے۔
حفاظتی اقدامات: موٹر سائیکل سواروں کے لیے سیفٹی گارڈز (لوہے کی تار) لگانا لازمی ہے، ورنہ لاہور میں داخلہ بند ہوگا۔
ڈرون مانیٹرنگ: شہر کی چھتوں کی نگرانی ڈرونز اور لیزر لائٹس کے ذریعے کی جائے گی تاکہ ہوائی فائرنگ اور خطرناک ڈور کے استعمال کو روکا جا سکے۔
کیا عوام کو مفت ٹرانسپورٹ ملے گی؟
ایک اور بڑی خبر یہ ہے کہ حکومت نے بسنت فیسٹیول کے دوران لاہور میں سیاحوں اور شہریوں کے لیے مفت ٹرانسپورٹ چلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
Consistency: The Key to Mastery
STAY CONNECTED WITH FaceLessMatters!
تازہ ترین ثقافتی خبروں، سماجی تجزیوں اور پنجاب کے حالات پر مستند رپورٹس حاصل کرنے کے لیے ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں۔ اپ ٹو ڈیٹ رہنے کے لیے ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں اور ہماری ویب سائٹ پر سبسکرائب کریں۔
👉 براہ راست ہماری ویب سائٹ پر اپڈیٹس پانے کے لیے یہاں کلک کریں:
👉 سوشل میڈیا پر جڑیں:
Educational Note: This content is for informational and educational purposes only.

0 Comments