اسمگلنگ اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ؛ وفاقی وزیر دفاع کے سنسنی خیز انکشافات
"اسمگلنگ صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ ملکی سلامتی کے لیے ایک براہِ راست خطرہ بن چکی ہے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذرائع کو کاٹنا اب قومی بقا کا معاملہ ہے۔"
اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں تیل کی اسمگلنگ کے ذریعے دہشت گرد گروپ روزانہ کی بنیاد پر 4 ارب روپے کما رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اسمگلنگ سے ہونے والی یہ خطیر رقم براہِ راست دہشت گردی کی مالی معاونت (Terror Financing) میں استعمال ہو رہی ہے، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اسمگلنگ کا یہ نیٹ ورک اتنا وسیع ہے کہ اس سے حاصل ہونے والا پیسہ ریاست کے خلاف ہتھیار خریدنے اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
اسمگلنگ اور دہشت گردی: ایک خطرناک گٹھ جوڑ
بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے ایرانی تیل کی غیر قانونی منتقلی ایک طویل عرصے سے جاری ہے، لیکن پہلی بار حکومت نے اس سے حاصل ہونے والی رقم کا براہِ راست تعلق دہشت گردی سے جوڑا ہے۔
حکومتی حکمت عملی اور چیلنجز
وزیر دفاع نے ایوان کو بتایا کہ حکومت اس غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، تاہم مقامی سطح پر اس کاروبار سے وابستہ افراد اور سرحدوں کی طوالت بڑے چیلنجز ہیں۔
Consistency: The Key to Mastery
STAY CONNECTED WITH FACELESS MATTERS!
تازہ ترین خبروں، سیکیورٹی رپورٹس اور گہرے تجزیوں کے لیے ہماری کمیونٹی کا حصہ بنیں۔ اپ ٹو ڈیٹ رہنے کے لیے ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں اور ہماری ویب سائٹ پر سبسکرائب کریں۔
👉 براہ راست ہماری ویب سائٹ پر اپڈیٹس پانے کے لیے یہاں کلک کریں:
👉 سوشل میڈیا پر جڑیں:

0 Comments