فیس لیس میٹرز کی خصوصی رپورٹ: عالمی معیشت پر جنگ کے مہیب سائے اور امریکی سیاست میں دراڑیں—کیا ٹرمپ اپنی ہی پارٹی کا اعتماد کھو رہے ہیں؟
عالمی معیشت پر اثرات اور مہنگائی کا نیا طوفان
فیس لیس میٹرز فیس بک کی اس معاشی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے نے نہ صرف مغربی ممالک بلکہ بھارت اور پاکستان جیسے ایشیائی ممالک کے لیے بھی معاشی بقا کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ معظم فخر کے تجزیے کے مطابق، خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک جانے کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح پر سپلائی چین مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گی۔ فیس لیس میٹرز انسٹاگرام کی تحقیق بتاتی ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 30 سے 50 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے، جو کہ عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہے۔ فضائی اور بحری مال برداری کے اخراجات بڑھنے سے عالمی تجارت سست روی کا شکار ہو گئی ہے، اور ماہرین اسے "گریٹ ڈپریشن" کے بعد کا سب سے بڑا معاشی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ سرمایہ کار اب اسٹاک مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال کر سونے اور دیگر محفوظ اثاثوں میں منتقل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی مالیاتی نظام میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
امریکی سیاست میں دراڑیں اور ٹرمپ کے لیے داخلی چیلنجز
فیس لیس میٹرز ایکس (ٹویٹر) کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ کے اندرونی سیاسی منظرنامے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی "امریکہ فرسٹ" اور "اینٹی وار" پالیسی کی بنیاد پر اقتدار میں آئے تھے، اب خود اپنی ہی پارٹی اور حامیوں (MAGA) کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ فیس لیس میٹرز یوٹیوب کی رپورٹ کے مطابق، ریپبلکن پارٹی کے کئی اہم اراکین اور ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے اس جنگ کو ایک لایعنی اور مہنگا سودا قرار دیتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا شروع کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں کا ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اس جنگ سے صرف مخصوص گروہوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ عام امریکی شہری معاشی بوجھ تلے دب رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے ان اختلافات نے انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے، اور پہلی بار ٹرمپ کو اپنی ہی بیس (Base) کی جانب سے احتجاج اور ناراضگی کا سامنا ہے۔ یہ سیاسی تقسیم نہ صرف ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے بلکہ امریکہ کے عالمی لیڈر کے طور پر امیج کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
عوامی ردِعمل اور اینٹی وار موومنٹ کی واپسی
فیس لیس میٹرز بلاگر کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے بڑے شہروں بشمول واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں جنگ مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں۔ "نو مور وارز" کے نعروں نے ٹرمپ انتظامیہ کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ فیس لیس میٹرز پنٹرسٹ کی سماجی رپورٹ بتاتی ہے کہ نوجوان نسل بالخصوص یونیورسٹیز کے طلباء اس جنگ کو وسائل کا ضیاع قرار دے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ پیسہ عوام کی صحت اور تعلیم پر خرچ ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر جاری مہمات نے ٹرمپ کے بیانیے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں انہیں ایک ایسے صدر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکا ہے۔ یہ عوامی دباؤ اب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کو اپنی جنگی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنی پڑ رہی ہے، کیونکہ داخلی انتشار کی موجودگی میں کسی بھی بیرونی جنگ کو جیتنا ناممکن ہوتا ہے۔
تزویراتی خلاصہ: کیا عالمی نظام بدلنے والا ہے؟
فیس لیس میٹرز کا خلاصہ یہ ہے کہ معاشی تباہی اور داخلی سیاسی تقسیم نے امریکہ کو ایک انتہائی کمزور پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کے خلاف فوجی کارروائی اب محض ایک سرحد کا تنازع نہیں رہی بلکہ یہ ٹرمپ کی صدارت اور امریکی عالمی برتری کے لیے بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ فیس لیس میٹرز کے مطابق، اگر عالمی طاقتوں نے مداخلت نہ کی تو یہ معاشی طوفان پوری دنیا کے سیاسی نقشے کو تبدیل کر دے گا، جہاں طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
Must-Read Viral Insights from our Website:
Source Verification & Analysis

0 Comments