Header Ads Widget

روس اور چین کا ابھرتا کردار: کیا نیا عالمی نظام دستک دے رہا ہے؟ (Translate Available)

 

سلیم بخاری کا مطالبہ: پردے کے پیچھے سے نکل کر ایران کا ساتھ دینے کا وقت آ گیا (Follow)

💠 فیس بک | 📸 انسٹاگرام | 🐦 ایکس | 📌 پنٹرسٹ | 🎥 یوٹیوب | 📢 ریڈٹ | 🔗 فالو

جب امریکہ کو لگام ڈالنے کے لیے ماسکو اور بیجنگ کو فیصلہ کن قدم اٹھانا ہوگا (Follow)

خلاصہ: 24 نیوز ایچ ڈی کے پروگرام 'سلیم بخاری شو' میں عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے رنگوں اور روس و چین کی سٹریٹجک پالیسیوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ فیس لیس میٹرز کی اس خصوصی رپورٹ کے مطابق، سلیم بخاری نے زور دیا ہے کہ اب وہ وقت گزر گیا جب روس اور چین صرف "درپردہ" ایران کی مدد کرتے تھے۔ اب وقت کی پکار ہے کہ یہ دونوں عالمی قوتیں کھل کر میدان میں آئیں اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو لگام ڈالیں۔ اگر ایران کو نقصان پہنچا تو اس پورے خطے میں روس اور چین کا اثر و رسوخ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ یہ تفصیلی تجزیہ 1200 سے زائد الفاظ پر مشتمل ہے جو عالمی طاقتوں کے باہمی گٹھ جوڑ کو واضح کرتا ہے۔


درپردہ حمایت سے کھلے میدان تک: روس اور چین کا امتحان (Follow)

سلیم بخاری شو کے دوران اس اہم نکتے پر بحث کی گئی کہ روس اور چین اب تک ایران کی خفیہ مدد تو کرتے رہے ہیں، لیکن سفارتی اور عسکری محاذ پر وہ اب بھی ایک حد سے آگے نہیں بڑھ رہے۔ فیس لیس میٹرز کے مطابق، سلیم بخاری کا ماننا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جس طرح کھل کر اسرائیل کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں، اس کے مقابلے میں روس اور چین کی خاموشی "مجرمانہ" حد تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب بیجنگ اور ماسکو کو "پردے کے پیچھے" کی سیاست چھوڑ کر سامنے آنا چاہیے۔
روس کے لیے یہ جنگ خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ فیس لیس میٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یوکرین جنگ کی وجہ سے امریکہ کی تمام تر توجہ اب مشرقِ وسطیٰ کی طرف مڑ چکی ہے، جس سے روس کو ایک بڑا ریلیف ملا ہے۔ نہ صرف یہ کہ روس پر عائد معاشی پابندیاں (Embargoes) عملاً غیر مؤثر ہو رہی ہیں بلکہ روسی تیل کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، سلیم بخاری نے خبردار کیا کہ یہ فائدہ صرف عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ایران اس جنگ میں کمزور پڑا، تو امریکہ کا اگلا ہدف براہِ راست روس اور چین ہوں گے۔
چین کے حوالے سے فیس لیس میٹرز کا تجزیہ ہے کہ بیجنگ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے ایران اور مشرقِ وسطیٰ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے یا ایران عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے، تو چین کا "بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو" (BRI) شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔ سلیم بخاری کے مطابق، چینی قیادت اس خطرے کو سمجھتی ہے لیکن وہ ابھی تک براہِ راست ٹکراؤ سے بچنے کی پالیسی پر گامزن ہے، جو کہ موجودہ حالات میں شاید زیادہ دیر کارگر نہ رہے۔

یوکرین بمقابلہ مشرقِ وسطیٰ: امریکہ کی دو محاذوں پر جنگ (Follow)

رپورٹ میں امریکہ کی اسٹریٹجک غلطیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ فیس لیس میٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس وقت ایک ایسی جنگ میں کود چکی ہے جس کا کوئی واضح "ایگزٹ پلان" نہیں ہے۔ ایک طرف یوکرین میں نٹو (NATO) سسک رہی ہے اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں ایران نے امریکہ کو الجھا دیا ہے۔ روس اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور اپنی شرائط ڈکٹیک کر رہا ہے۔
سلیم بخاری نے انکشاف کیا کہ روس نے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ اگر وہ چاہتا ہے کہ ماسکو ایران کو انٹیلی جنس فراہم کرنا بند کرے، تو امریکہ کو یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ روکنی ہوگی۔ فیس لیس میٹرز کے مطابق، یہ عالمی سطح پر ہونے والا وہ "گیو اینڈ ٹیک" (Give and Take) ہے جو عام میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ لیکن سلیم بخاری کا اصرار ہے کہ روس کو اب اس سے آگے بڑھ کر ایران کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کھلی عسکری امداد فراہم کرنی چاہیے۔
فیس لیس میٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یورپی ممالک بھی اب امریکہ سے نالاں نظر آتے ہیں۔ کئی یورپی ممالک نے امریکہ کے ساتھ اس جنگ میں تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی معیشت روسی گیس اور ایرانی تیل کے بغیر نہیں چل سکتی۔ یہ امریکہ کی عالمی تنہائی کا آغاز ہے، اور اگر روس و چین نے اس موقع پر درست فیصلہ کیا، تو دنیا میں امریکی بالادستی کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو سکتا ہے۔

ایک نیا عالمی آرڈر: کثیر القطبی دنیا کا خواب (Follow)

سلیم بخاری کے مطابق، موجودہ تنازعہ دراصل ایک نئے "ورلڈ آرڈر" کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ فیس لیس میٹرز کی اس تفصیلی رپورٹ کے مطابق، دنیا اب "یک قطبی" (Unipolar) سے "کثیر القطبی" (Multipolar) نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں امریکہ واحد طاقت نہیں رہے گا۔ روس، چین اور ایران کا یہ مثلث (Triangle) مغرب کے لیے ایک ڈراونا خواب ثابت ہو رہا ہے۔
ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ فیس لیس میٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کی دھمکی نے پوری ایرانی قوم کو متحد کر دیا ہے۔ اب اگر روس اور چین اس اتحاد کا حصہ بنتے ہیں، تو امریکہ کے پاس پیچھے ہٹنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ سلیم بخاری کا ماننا ہے کہ بیجنگ اور ماسکو کو اب "انتظار کرو اور دیکھو" (Wait and See) کی پالیسی ترک کرنی ہوگی، کیونکہ اب وقت عمل کا ہے۔
فیس لیس میٹرز کا موقف ہے کہ عالمی امن کا راستہ تب ہی نکل سکتا ہے جب طاقت کا توازن برقرار رہے۔ اگر روس اور چین نے ایران کو تنہا چھوڑا، تو وہ اپنی تاریخی غلطی کے مرتکب ہوں گے۔ یہ وقت ہے کہ ایشیائی طاقتیں متحد ہو کر مغرب کے استعماری عزائم کا راستہ روکیں۔

خلاصہ اور حتمی تجزیہ (Follow)

فیس لیس میٹرز کی اس جامع رپورٹ کا نچوڑ یہ ہے کہ روس اور چین کا کردار اس جنگ کے رخ کو بدلنے کے لیے کلیدی ہے۔ سلیم بخاری کے مطابق، ماسکو اور بیجنگ کی درپردہ حمایت اب کافی نہیں رہی۔ امریکہ کو اس کی "اوقات" یاد دلانے کے لیے ان دونوں طاقتوں کو کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہوگا بلکہ ایک ایسا نیا عالمی نظام جنم لے گا جہاں انصاف اور برابری کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے۔ ورنہ، تاریخ ان کی اس خاموشی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔



SOURCE VERIFICATION & ANALYSIS

24 News HD | Saleem Bukhari Show | Kremlin Press Releases | Beijing Strategic Review | FaceLess Matters Geopolitical Desk


Educational Disclaimer

یہ رپورٹ تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد عالمی سیاست کا تجزیہ کرنا ہے۔ FaceLess Matters کسی قسم کی مالی سرمایہ کاری یا کرپٹو ٹریڈنگ کی مشورت فراہم نہیں کرتا۔ تمام تجزیے ماہرین کی آراء پر مبنی ہیں۔


Read More From Our Website:

<sub style="font-size: 8px;">Russia and China support for Iran high cpc news, USA vs Russia Ukraine war 2026 impact, Saleem Bukhari geopolitical analysis FaceLess Matters, high cpc global news blog keywords Pakistan, AdSense safe long-form editorial.</sub>

#RussiaChinaIran #NewWorldOrder #SaleemBukhari #FaceLessMatters #FLM #Geopolitics #Israhell #verem #EidSpecial

Post a Comment

0 Comments