اسلام آباد: پاکستان میں شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کرنے کے حوالے سے بننے والے نئے قوانین پر ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس قانون کو "غیر اسلامی" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوغت کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ جسمانی علامات سے ہے اور اس طرح کے قوانین مغربی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
کیا مولانا فضل الرحمان کا موقف ٹیکنیکلی درست ہے؟
جدید طب اور عمرانیات کے ماہرین مولانا کے اس موقف کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہیں۔
جسمانی پختگی: میڈیکل سائنس کے مطابق، 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کا جسمانی ڈھانچہ (Pelvic Bone) بچے کی پیدائش کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہوتا، جو زچگی کے دوران موت کا سبب بن سکتا ہے۔
ذہنی بلوغت: قانونی طور پر 18 سال کی عمر کو اس لیے معیار بنایا گیا ہے کیونکہ اس عمر میں انسان اپنے فیصلے کرنے اور ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل ہوتا ہے۔
تعلیمی نقصان: کم عمری کی شادی لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیتی ہے، جو معاشی طور پر ایک کمزور معاشرے کو جنم دیتی ہے۔
جھوٹ کا سہارا اور عوامی گمراہی
مولانا فضل الرحمان کا یہ کہنا کہ 18 سال کی پابندی "دین کے خلاف" ہے، کئی دیگر اسلامی ممالک کے قوانین سے متصادم ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں منظور ہونے والے 'چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025' کو صدرِ مملکت نے بھی دستخط کر کے قانون بنا دیا ہے، لیکن مولانا کی جانب سے ملک گیر احتجاج کی کال اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس سائنسی اور سماجی حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے انتشار کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔
معاشرے پر اثرات
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
1. پاکستان میں شادی کی نئی قانونی عمر کیا ہے؟ اسلام آباد اور سندھ میں شادی کی قانونی عمر لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے 18 سال مقرر کی گئی ہے۔
2. مولانا فضل الرحمان اس قانون کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ مولانا کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون شریعت کے خلاف ہے اور وہ بلوغت کو عمر کے بجائے جسمانی علامات سے جوڑتے ہیں۔
3. کیا 18 سال سے کم عمر شادی کے طبی نقصانات ہیں؟ جی ہاں، طبی ماہرین کے مطابق کم عمری میں حمل لڑکی کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے بچوں میں معذوری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
4.
#ChildMarriageLaw #MaulanaFazlurRehman #PakistanNews #FaceLessMatters #HumanRights #HealthFacts #BreakingNews #MarriageAge #SocietyTrends
انٹرنل لنکنگ:

0 Comments