Header Ads Widget

کیا پاکستان کا ترقیاتی انفراسٹرکچر واقعی ایک 'بدعنوانی زدہ' مالیاتی جال بن چکا ہے؟

 

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کا انکشاف: انفراسٹرکچر سیکٹر میں گورننس کا سنگین بحران اور شفافیت کے مفقود اہداف

جرنلسٹ: شاہد فریدی

پاکستان کے قومی انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی، جو ملک کی معاشی ترقی کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے، ایک ایسے سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں شفافیت کی بجائے مالیاتی بدعنوانی کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی تازہ ترین "انفراسٹرکچر کرپشن رسک اسیسمنٹ" (ICRAT) رپورٹ نے حکومتی ایوانوں میں ایک زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ فیس لیس میٹرز کے گہرے تجزیے کے مطابق، یہ صرف ایک عددی درجہ بندی نہیں، بلکہ ان ساختی نقائص کا منہ بولتا ثبوت ہے جو دہائیوں سے پاکستان کی تعمیراتی معیشت کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ 10 میں سے 6.34 کا اسکور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہم "اعلیٰ خطرے" (High Risk) کے زمرے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں عوامی ٹیکس کا پیسہ ترقی کے بجائے چند بااثر حلقوں کی جیبوں میں جانے کا خدشہ ہے۔

گورننس کا ساختی خلا اور شفافیت کی موت

پاکستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی منصوبہ بندی سے لے کر ان کی تکمیل تک، ایک ایسا گہرا گورننس کا خلا موجود ہے جو بدعنوانی کو پروان چڑھانے کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔ فیس لیس میٹرز کے انویسٹی گیٹو ماہرین کا ماننا ہے کہ یہاں بنیادی مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان کا غیر مؤثر نفاذ ہے۔ جب منصوبوں کا انتخاب سیاسی بنیادوں پر ہوتا ہے تو عوامی مفاد پس پشت چلا جاتا ہے اور "کمیشن" اور "کک بیکس" کی سیاست عروج پکڑ لیتی ہے۔ یہ رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ الیکشن کے قریب آتے ہی ترقیاتی اخراجات میں ہونے والا بے جا اضافہ محض عوامی خدمت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سیاسی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد منصوبوں کی آڑ میں فنڈز کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ فیس لیس میٹرز اس بات کا سختی سے تجزیہ کرتا ہے کہ جب تک ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کا عمل غیر مسابقتی رہے گا، تب تک انفراسٹرکچر کی معیاری تعمیر ممکن نہیں ہوگی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے حوالے سے رپورٹ میں اٹھائے گئے تحفظات کہ پی پی آر اے رول 42(f) کا غلط استعمال کر کے براہِ راست سرکاری اداروں کو ٹھیکے دیے جا رہے ہیں، ایک سنگین الارم ہے جو خود احتسابی کے عمل کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

پاکستان کا معاشی چارٹر اور اصلاحاتی ایجنڈا

فیس لیس میٹرز اس بات پر متفق ہے کہ انفراسٹرکچر گورننس میں پائیدار بہتری کے لیے صرف کاغذی اصلاحات کافی نہیں ہیں۔ چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جسٹس (ر) ضیاء پرویز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی کے نقطہ نظر کے مطابق، منصوبے کے پورے دورانیے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا مربوط ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق، اصلاحات کا آغاز این ایچ اے جیسے اہم اداروں کی لیڈرشپ میں میرٹ کی بالادستی سے ہونا چاہیے۔ جب تک اہم عہدوں پر تقرریاں سیاسی سفارشات کے بجائے پیشہ ورانہ اہلیت کی بنیاد پر نہیں ہوں گی، تب تک سسٹم میں شفافیت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اصلاحاتی ایجنڈے میں یہ شامل ہونا چاہیے کہ فزیبلٹی رپورٹس سے لے کر کنٹریکٹ میں ہونے والی معمولی ترامیم تک، سب کچھ عوام کے سامنے پبلک کیا جائے۔ فیس لیس میٹرز کا یہ موقف ہے کہ عوامی پیسے کی حفاظت صرف اور صرف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ممکن ہے—یعنی ایک 'ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم' جو ریئل ٹائم میں ہر منصوبے کی پیش رفت کو ٹریک کر سکے۔

شفافیت کی جانب ایک طویل سفر

موجودہ صورتحال میں پاکستان کو اپنے معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ میاں نواز شریف کا تعمیراتی وژن ہمیشہ سے ایک ایسے شفاف سسٹم کا خواہاں رہا ہے جس میں وسائل ضائع نہ ہوں۔ فیس لیس میٹرز کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کی معاشی ٹیم کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ان سفارشات کو اپنے "بجٹ ریفارمز" کا حصہ بنانا ہوگا۔ صرف اسی صورت میں ہم عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے ایک خود مختار اور شفاف معاشی ریاست کے طور پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا انفراسٹرکچر سیکٹر اب مزید بدعنوانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ فیس لیس میٹرز کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ "گورننس کا خلا" مستقبل میں ملکی ترقی کی رفتار کو مزید سست کر دے گا۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کریں اور ایک ایسے شفاف نظام کی بنیاد رکھیں جہاں تعمیرِ پاکستان کا ہر روپیہ ملک و قوم کے کام آئے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام اس رپورٹ کو محض ایک تنقید نہیں بلکہ اصلاحات کا ایک سنہری موقع سمجھیں گے، کیونکہ شفافیت ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں اقتصادی خود انحصاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔

MUST-READ VERIFIED INSIGHTS FROM OUR WEBSITE:

For elite corporate and financial readership, keywords such as Pakistan Infrastructure Governance Report 2026, ICRAT Corruption Risk Assessment, NHA Public Procurement Reform, Fiscal Accountability Metrics, and Sovereign Transparency Strategy drive substantial premium CPC value. Global advertisers and institutional stakeholders prioritize intelligence on Enterprise Compliance Risk, Infrastructure Project Auditing, Anti-Corruption Governance Frameworks, and Public Asset Management. FACELESS MATTERS integrates these data points into its statecraft intelligence briefs, optimizing for top-tier audience conversion and monetization.

EDUCATIONAL PURPOSE DISCLAIMER

This publication monitored by FACELESS MATTERS is distributed purely for academic, treaty tracking, educational, and independent journalistic research purposes. This text does not constitute legal or fiscal counsel regarding public policy investments.

#TransparencyInternational #InfrastructureCorruption #GovernanceReform #PakistanEconomy #ICRAT2026 #PublicAccountability #NHA #PositiveVibes #FACELESSMATTERS

Post a Comment

0 Comments